ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبہ: امن بورڈ کو کمائی کا ذریعہ بنا دیا، ترکی، مصر اور ارجنٹینا کو بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت

0

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بورڈ آف پیس کے لیے مستقبل کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کر دی ہے، جس سے یہ عالمی امن اور ثالثی کے ادارے کے بجائے ایک تجارتی اور سرمایہ کاری کا پلیٹ فارم بھی بن گیا ہے۔

بورڈ کی تنظیم اور رکنیت

  • بورڈ کے ابتدائی ارکان کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔

  • بورڈ اقوام متحدہ کی طرز پر امن قائم کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگا، جبکہ صدر ٹرمپ خود چیئرمین کے طور پر ویٹو پاور کے حامل ہوں گے۔

  • مستقل رکنیت کے خواہشمند کو ایک ارب ڈالر کی فیس ادا کرنا ہوگی، جس سے بورڈ کی آمدنی کا واضح ماخذ بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ابتدائی ارکان کا اعلان

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابتدائی ارکان میں شامل ہیں:

  • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

  • ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف

  • ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر

  • سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر

  • ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا

  • ارب پتی سرمایہ کار رابرٹ گبریل اور مارک رووان

بین الاقوامی دعوتیں

وائٹ ہاؤس نے ترکی، مصر اور ارجنٹینا کے صدور کو بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی ہے، جس سے بورڈ کے عالمی کردار اور سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش نظر آتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.