بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں خطرناک نپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ، ہائی الرٹ جاری

0

کولکتہ – بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں کورونا سے بھی زیادہ مہلک سمجھے جانے والے نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ طبی اور انتظامی اداروں کو فوری حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق نپاہ وائرس سے متاثرہ دو نرسیں ضلع پوربا بردھمان کے ایک طبی مرکز میں فرائض انجام دیتے ہوئے وائرس کا شکار ہوئیں۔ محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ متاثرہ نرسوں میں سے ایک کی حالت میں بہتری آئی ہے، تاہم دوسری نرس کی حالت بدستور انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

وائرس کے ماخذ پر ابہام برقرار

حکام کے مطابق فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ نپاہ وائرس کا اصل ذریعہ کیا تھا اور یہ وائرس کس طریقے سے طبی عملے تک منتقل ہوا۔ ماہرین کی جانب سے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیہ جاری ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں ایپی ڈیمولوجیکل سرویلنس سخت کر دی گئی ہے۔

صحت حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ کمیونٹی ٹرانسمیشن کے خطرے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے تفصیلی گائیڈ لائنز جاری

مغربی بنگال حکومت نے نپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر تفصیلی حفاظتی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جن میں:

  • مشتبہ مریضوں کی فوری تشخیص

  • سخت آئیسولیشن

  • مخصوص وارڈز کا قیام

  • طبی عملے کے لیے مکمل حفاظتی لباس

  • متاثرہ افراد کے رابطوں کی ٹریسنگ

شامل ہیں۔

حکام نے ہدایت کی ہے کہ تمام سرکاری و نجی اسپتال نپاہ پروٹوکول پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

نپاہ وائرس کیا ہے؟

نپاہ وائرس ایک Zoonotic وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی پہلی بار شناخت 1998 اور 1999 میں ملائیشیا میں پھیلنے والی وبا کے دوران ہوئی تھی۔

ماہرین کے مطابق:

  • چمگادڑ اس وائرس کا بنیادی قدرتی ذریعہ ہیں

  • انسان متاثرہ چمگادڑوں سے براہ راست رابطے

  • آلودہ پھل یا خوراک

  • متاثرہ جانور

  • یا متاثرہ انسان کے قریبی جسمانی رابطے

کے ذریعے وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انتہائی بلند شرحِ اموات

طبی ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس کو دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ریکارڈ کی جا چکی ہے، جو کورونا وائرس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ویکسین یا مخصوص علاج تاحال موجود نہیں

عالمی ادارہ صحت کے مطابق نپاہ وائرس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص اینٹی وائرل دوا دستیاب نہیں۔ علاج کا انحصار صرف:

  • علامات کو کنٹرول کرنے

  • آکسیجن سپورٹ

  • وینٹی لیٹر سہولت

  • اور دیگر معاون طبی اقدامات

پر ہوتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.