گرین لینڈ پر امریکی ٹیرف ناقابل قبول، کینیڈا ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے: وزیراعظم مارک کارنی
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق ممکنہ ٹیرف عائد کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر تجارتی دباؤ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینیڈا آرکٹک خطے میں سلامتی اور خوشحالی کے لیے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اس معاملے پر گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور خطے میں کسی بھی یکطرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔
مارک کارنی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے اور دنیا طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب معاشی انضمام کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو عالمی استحکام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
کینیڈین وزیراعظم کے مطابق اگر ممالک مذاکرات کی میز پر موجود نہ ہوں تو وہ ایسے فیصلوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ان کے قومی مفادات کے خلاف ہوں، اسی لیے فعال سفارت کاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
اس سے قبل ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف دھمکیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس دھمکیوں اور دباؤ کے بجائے باہمی احترام اور تعاون پر یقین رکھتا ہے اور غنڈہ گردی کی پالیسی کے سامنے جھکنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
صدر میکرون کا کہنا تھا کہ فرانس اور یورپ دنیا میں ترقی اور استحکام کے خواہاں ہیں، تاہم حالیہ عالمی حالات میں سامراجی عزائم ایک بار پھر سر اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں، جو بین الاقوامی امن اور عالمی نظام کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔