گرین لینڈ تنازع: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے کی منظوری دے دی
برسلز — یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی معاہدہ عارضی طور پر معطل کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یورپی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق دھمکی آمیز بیانات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کے حالیہ بیانات اور اقدامات سے یورپ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس کے باعث موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ معمول کے تجارتی اور سفارتی تعلقات برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔
یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق “کسی بھی اتحادی ملک کی جانب سے یورپی سرزمین یا اس سے منسلک علاقوں کے بارے میں دباؤ، دھمکی یا معاشی ہتھکنڈوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔”
چیئرمین یورپی یونین ٹریڈ کمیٹی نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ جب سیاسی دباؤ اور جغرافیائی سالمیت کو چیلنج کیا جائے تو معاشی تعاون کو معمول پر رکھنا ممکن نہیں رہتا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام یورپی اتحاد، خودمختاری اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔
یورپی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک بڑی دراڑ کے مترادف ہے، جو سرد جنگ کے بعد شاید اپنی نوعیت کی ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی تجارت، نیٹو اتحاد اور مغربی بلاک کی یکجہتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کی بحالی کا انحصار امریکا کے آئندہ رویے، سفارتی زبان اور یورپی خودمختاری کے احترام سے مشروط ہوگا۔