کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا: ایرانی سینئر اہلکار کی سخت وارننگ

0

تہران – ایران کے ایک سینئر سرکاری اہلکار نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ کسی بھی قسم کے حملے کو ایران اپنے خلاف ہمہ گیر جنگ تصور کرے گا اور اس کا جواب انتہائی سخت انداز میں دیا جائے گا۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ پر جاری ہونے والی خبر کے مطابق ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی اثاثوں کی متوقع آمد کے تناظر میں ایران کی مسلح افواج کو مکمل ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

سینئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ اگرچہ تہران کو امید ہے کہ امریکی فوجی نقل و حرکت کا مقصد کسی حقیقی تصادم کی طرف جانا نہیں، تاہم ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

انہوں نے کہا “یہ فوجی سازوسامان اگرچہ بظاہر دباؤ بڑھانے کے لیے لایا جا رہا ہے، مگر ہماری افواج بدترین صورتِ حال کے لیے تیار ہیں، اسی لیے ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔”

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اس مرتبہ کسی بھی نوعیت کے حملے — چاہے وہ محدود ہو، جراحی نوعیت کا ہو، کائینیٹک ہو یا کسی اور اصطلاح کے تحت کیا جائے — ایران اسے مکمل جنگ کے مترادف سمجھے گا۔

ان کا کہنا تھا “اس بار ہم کسی بھی حملے کو محدود کارروائی نہیں سمجھیں گے بلکہ اسے ہمارے خلاف ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا، اور اس کا جواب انتہائی مشکل اور سخت طریقے سے دیا جائے گا۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں امریکی بحری اور فضائی موجودگی کو بھی نمایاں طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ سخت مؤقف خطے میں ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے، اور آئندہ دن مشرقِ وسطیٰ کے لیے نہایت حساس قرار دیے جا رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.