بحیرہ روم میں بڑا انسانی المیہ ٹل گیا، لیبیا کے ساحل کے قریب 404 تارکینِ وطن کو ریسکیو کر لیا گیا

A major humanitarian tragedy in the Mediterranean has been averted, with 404 migrants rescued off the coast of Libya.

لیبیا کے مشرقی ساحل کے قریب بحیرہ روم میں ایک بڑے انسانی المیے کو اس وقت ٹال دیا گیا جب ڈوبنے کے خطرے سے دوچار 404 تارکینِ وطن کو بروقت ریسکیو کر لیا گیا۔ یہ آپریشن لیبیئن ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ٹوبروک برانچ نے توبروک کے ساحل کے قریب انجام دیا، جس میں اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے بھی معاونت فراہم کی۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے یہ تارکینِ وطن 10 چھوٹی اور غیر محفوظ کشتیوں میں سوار تھے، جو شدید موسمی اور سمندری حالات کے باعث کسی بھی وقت حادثے کا شکار ہو سکتی تھیں۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو سمندر سے نکال کر بحفاظت ساحل تک منتقل کیا، جہاں انہیں فوری طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔

حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں افراد لیبیا سے خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس، غیر محفوظ کشتیوں کا استعمال اور خراب موسمی حالات اس سفر کو انتہائی جان لیوا بنا دیتے ہیں، جس کے باعث ہر سال سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کا راستہ دنیا کے خطرناک ترین ہجرتی روٹس میں شامل ہے، جہاں جنگ، غربت اور سیاسی عدم استحکام سے بچنے کی کوشش میں لوگ اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حالیہ ریسکیو آپریشن اگرچہ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ مہاجرین کا بحران اب بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مستقل حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے