بیجنگ – چین کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملکی فوج کے انتہائی سینئر جنرلز کے خلاف سنگین نظم و ضبط اور قانونی خلاف ورزیوں پر تحقیقات جاری ہیں، جسے چین کی فوجی تاریخ کی بلند ترین سطح کی احتسابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق سنٹرل ملٹری کمیشن (CMC) کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف جنرل ژانگ یوشیا اور جنرل لیو ژینلی پر نظم و ضبط اور قانون کی ممکنہ سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے۔
جنرل ژانگ یوشیا چین کے صدر شی جن پنگ کے ماتحت سیکنڈ اِن کمانڈ کی حیثیت رکھتے ہیں اور سی ایم سی کے وائس چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں طویل عرصے سے صدر شی جن پنگ کا قریبی فوجی اتحادی تصور کیا جاتا رہا ہے۔
ژنـگ یوشیا حکمران کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین فورم پولٹ بیورو کے رکن بھی ہیں اور وہ ان چند سینیئر فوجی افسران میں شامل ہیں جن کے پاس عملی جنگی تجربہ موجود ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بیجنگ اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی سطح پر اپنی عسکری طاقت کے اظہار کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اندرونی احتسابی مہم نے چینی فوجی قیادت میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
چین میں حالیہ برسوں کے دوران فوج اور سیکیورٹی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں، جنہیں صدر شی جن پنگ کی طاقت کے ارتکاز اور ادارہ جاتی کنٹرول کی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔چینی وزارتِ دفاع نے تاحال تحقیقات کی نوعیت یا ممکنہ سزا سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
