عراقی پارلیمنٹ کے سب سے بڑے بلاک نے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا

0

بغداد — ایران کے قریب سمجھی جانے والی شیعہ جماعتوں پر مشتمل اور عراقی پارلیمنٹ کے سب سے بڑے اتحاد "کوآرڈینیشن فریم ورک” نے سابق وزیراعظم نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گہری اور طویل مشاورت کے بعد اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ نوری المالکی کو سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کے امیدوار کے طور پر وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا جائے۔

بیان کے مطابق یہ فیصلہ نوری المالکی کے سیاسی اور انتظامی تجربے، ریاستی امور چلانے کی صلاحیت اور ماضی میں حکومتی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

نوری المالکی کا سیاسی پس منظر

نوری المالکی اس سے قبل 2006 سے 2014 تک دو مرتبہ عراق کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں عراق نے اپنی جدید تاریخ کے نہایت اہم اور حساس مراحل دیکھے۔

اس عرصے کے دوران:

  • امریکی افواج کا عراق سے انخلاء ہوا

  • ملک فرقہ وارانہ کشیدگی اور خانہ جنگی کا شکار رہا

  • داعش نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا

ان واقعات نے عراقی سیاست، سکیورٹی اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں ردِعمل متوقع

نوری المالکی کی دوبارہ نامزدگی کو عراقی سیاست میں ایک اہم اور متنازع پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی، سنی اور کرد جماعتوں کے ردِعمل کا امکان ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومت سازی کے لیے سخت مذاکرات اور ممکنہ سیاسی کشیدگی دیکھنے میں آ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عراق داخلی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.