ابوظبی ویزا نہ ملنے پر پاکستانی ویمنز ایم ایم اے فائٹر انیتا کریم فائٹ سے محروم
اسلام آباد — پاکستان کی پہلی پروفیشنل ویمنز ایم ایم اے فائٹر انیتا کریم ابوظبی کا ویزا جاری نہ ہونے کے باعث اپنے طے شدہ بین الاقوامی مقابلے میں شرکت سے محروم ہو گئی ہیں۔
انیتا کریم کی ایم ایم اے فائٹ 31 جنوری کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں شیڈول تھی، تاہم ویزا مسائل کے باعث وہ مقررہ وقت پر ایونٹ میں شرکت نہ کر سکیں، جس کے بعد ایونٹ انتظامیہ نے ان کی جگہ ایک دوسری فائٹر کو مقابلے کے لیے مدعو کر لیا۔
انیتا کریم نے اس صورتحال پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس فائٹ کے لیے کئی ماہ تک مسلسل محنت کی، مگر ویزا مسائل نے ان کے کیریئر کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا،
“میں نے اس فائٹ کے لیے طویل تیاری کی تھی، تین ہفتوں کے اندر میری دوسری فائٹ بھی شیڈول تھی، مگر ویزا جیسے مسائل کھلاڑی کے کیریئر کو متاثر کرتے ہیں۔ ایتھلیٹس کے ویزا معاملات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔”
انیتا کریم کے مینجر یاسر مشتاق نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انیتا مقررہ فائٹ میں حصہ نہیں لے پائیں گی۔ ان کے مطابق ایونٹ انتظامیہ کی جانب سے ویزا کے حوالے سے واضح ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
یاسر مشتاق نے بتایا کہ ڈیڈ لائن مکمل ہونے تک ویزا جاری نہ ہو سکا، حالانکہ ایونٹ انتظامیہ نے ایک ہفتے تک انیتا کریم کے ویزا کا انتظار کیا۔
ان کے مطابق انیتا کریم اس صورتحال سے شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ ان کی اگلی فائٹ اپریل میں شیڈول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محسن نقوی انیتا کریم کے ویزا مسئلے کے حل میں کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کی پہلی پروفیشنل ویمنز ایم ایم اے فائٹر کا بین الاقوامی کیریئر محفوظ رہ سکے۔