شمالی کوریا نے بحیرۂ جاپان کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغ دیے، جاپان اور جنوبی کوریا کی تصدیق

0

ٹوکیو / سیئول – جاپان نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے منگل کے روز بحیرۂ جاپان کی سمت دو بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جاپانی کوسٹ گارڈ نے وزارتِ دفاع کے حوالے سے بتایا کہ دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا گیا جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ فائر ہونے کے بعد سمندر میں گر چکے ہیں۔

ادھر جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایک مشتبہ پروجیکٹائل کا پتا لگایا ہے جو مشرقی سمندر کی جانب بڑھا، جسے جاپان میں بحیرۂ جاپان کہا جاتا ہے۔

جاپانی خبر رساں ایجنسی جیجی پریس نے وزارتِ دفاع کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دونوں میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) سے باہر گرے، جس کے باعث فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایک ماہ میں دوسرا میزائل تجربہ

یہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے رواں ماہ کا دوسرا تجربہ ہے، جو ایسے وقت میں کیا گیا جب جنوبی کوریا کے رہنما چین کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے اور چند گھنٹوں بعد اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات متوقع تھی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ دفاع کے تیسرے اعلیٰ ترین اہلکار ایلبریج کولبی ایک روز قبل ہی سیئول کا دورہ مکمل کر کے گئے تھے، جہاں انہوں نے جنوبی کوریا کو امریکا کا "ماڈل اتحادی” قرار دیا تھا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا حالیہ برسوں میں میزائل تجربات میں نمایاں اضافہ کر چکا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے کئی ممکنہ مقاصد ہیں، جن میں:

  • میزائلوں کی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت بہتر بنانا

  • امریکا اور جنوبی کوریا پر اسٹریٹجک دباؤ بڑھانا

  • ممکنہ طور پر روس کو ہتھیاروں کی برآمد سے قبل ان کی جانچ

شمالی کوریا کے ان اقدامات کو خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.