دمشق – شامی حکومت اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان کئی ہفتوں کی کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کا مقصد شمالی اور مشرقی شام میں جاری عدم استحکام کا خاتمہ اور انسانی بحران میں کمی لانا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق معاہدہ ثالثی کوششوں کے نتیجے میں طے پایا، جس میں بین الاقوامی اور علاقائی فریقوں نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ جنگ بندی کے تحت دونوں فریق فوری طور پر تمام عسکری کارروائیاں روکیں گے اور متنازع علاقوں میں فائر بندی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
معاہدے کے اہم نکات کے مطابق:
-
تمام محاذوں پر فائر بندی نافذ ہوگی
-
شہری علاقوں سے بھاری ہتھیار ہٹائے جائیں گے
-
اہم شاہراہوں اور تنصیبات کے اطراف فوجی سرگرمیاں محدود کی جائیں گی
-
انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے گا
-
مقامی سطح پر رابطہ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے
شامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ ریاستی خودمختاری کے دائرے میں قومی استحکام کی جانب ایک قدم ہے، جبکہ ایس ڈی ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا مقصد شمالی شام کے شہریوں کو مزید خونریزی سے بچانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام کے شمالی علاقوں میں سیکیورٹی دباؤ، معاشی بحران اور بیرونی طاقتوں کی موجودگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار عملی عملدرآمد اور بیرونی مداخلت میں کمی پر ہوگا۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانی امداد اور سیاسی عمل کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
