پابندیاں اٹھانے کے بدلے جوہری ہتھیار سے دست برداری کے لیے تیار ہیں، ایران

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met with his Egyptian counterpart

ریاض / واشنگٹن — ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی دوبارہ ظاہر کر دی ہے، جبکہ خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر یہ اعلان اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران ایک ایسے معاہدے کو اپنانے کے لیے تیار ہے جو ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی ضمانت دے اور بین الاقوامی پابندیوں کو ختم کرے۔ انہوں نے ہفتے کے روز اپنی ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ایران خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سلامتی اور استحکام کے لیے رابطوں کو فروغ دینے کے لیے بھی تیار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ بنیاد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے "سی این این ترک” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے اور کسی بھی حقیقی مذاکرات سے قبل دھمکیوں اور دباؤ کی فضا کو ختم کرنا ضروری ہے۔

عراقچی کے بیانات خطے میں کشیدگی اور تہران-واشنگٹن تعلقات میں نرمی کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کی یہ پالیسی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری ہتھیار سے دست برداری کی پیشکش کو اجاگر کرتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے