امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد بنیامین نیتن یاہو اور جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے براہِ راست بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ان کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے سفیروں سے ہونے والی حالیہ ملاقات “مثبت اور تعمیری” رہی، جس سے سفارتی پیش رفت کی امید مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا لبنان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ وہ خود کو حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھ سکے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن خطے میں استحکام کے لیے نہ صرف سفارتی بلکہ سکیورٹی تعاون کو بھی فروغ دے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اور جنگ بندی میں توسیع اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم پائیدار امن کے لیے اسرائیل اور لبنان کے درمیان بنیادی تنازعات کا حل ناگزیر ہے۔
