امریکا کا سلامتی کونسل میں ایران پر روس کو ڈرون دینے کا الزام، چین سے بھی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ

US accuses Iran of giving drones to Russia in Security Council, calls on China to increase pressure

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں، جو روس۔یوکرین جنگ کے چار سال مکمل ہونے پر منعقد ہوا، امریکا نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والے ڈرون فراہم کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کی جانب سے روس کو ڈرونز کی فراہمی جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہی ہے اور یہ اقدام عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

امریکی سفیر نے مزید کہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے متحرک ہیں اور سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

انہوں نے چین پر بھی زور دیا کہ اگر وہ واقعی امن کا خواہاں ہے تو روس کو فوجی سازوسامان کی فراہمی اور اس سے تیل کی خریداری بند کرے، کیونکہ اس طرح کی معاشی اور عسکری مدد جنگ کو طول دینے کا سبب بن رہی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق یوکرین جنگ نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ روس اور یوکرین فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کریں۔

دوسری جانب روس اور ایران نے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا عسکری تعاون بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے، جبکہ چین بھی روس کو براہ راست فوجی مدد دینے کے دعووں کو مسترد کرتا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے