حکومت نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کیو آر کوڈ کو باقاعدہ سیکیورٹی اور تصدیقی فیچر کی قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ کیو آر پر مبنی تصدیق کے ذریعے آف لائن اور آن لائن فوری ویری فکیشن ممکن ہو سکے گی۔ مزید برآں “کیو آر کوڈ یا دیگر تکنیکی فیچر” کو مائیکروچپ کے متبادل کے طور پر بھی قابلِ استعمال قرار دیا گیا ہے۔
مختلف اقسام کے قومی شناختی کارڈز کی جگہ یکساں نوعیت کا کارڈ جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ شناختی کارڈ معطل ہونے کی صورت میں اس سے منسلک تمام تصدیقی اور توثیقی خدمات بھی فوری طور پر معطل ہوں گی۔
نئے نظام میں فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کو قواعد کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا ہے ۔ اسی طرح 60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو عمر بھر کے لیے مؤثر اسمارٹ شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے کارڈ پر مخصوص عبارت درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ شناختی کارڈز کے نئے نمونے بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن میں کیو آر کوڈ اور جدید سیکیورٹی لے آؤٹ شامل ہوگا۔