روس اور ایران کا پاکستان اور افغانستان سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ، ثالثی و سہولت کاری کی پیشکش
ماسکو / تہران / اسلام آباد / کابل – روس اور ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد اور کابل کو فوجی کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کا تسلسل نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر دونوں فریق درخواست کریں تو روس ثالثی کے کردار پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان اور افغانستان کو اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاک افغان سرحد پر حالیہ دنوں میں شدید جھڑپوں، فضائی کارروائیوں اور ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات کے باعث صورتحال کشیدہ ہے۔ دفاعی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور ایران کی جانب سے ثالثی و سہولت کاری کی پیشکش اس بحران کو کم کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کا دارومدار اسلام آباد اور کابل کی رضامندی اور عملی سفارتی اقدامات پر ہوگا۔