برطانیہ نے ایران سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا، امریکا نے بھی یروشلم میں عملہ کم کر دیا
لندن/یروشلم – موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر برطانیہ نے ایران سے اپنے سفارتی عملے کو عارضی طور پر واپس بلا لیا ہے جبکہ امریکا نے بھی یروشلم میں اپنے سفارت خانے کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے اور برطانوی دفترِ خارجہ ایران میں حالات کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں برطانوی سفارت خانہ بدستور ریموٹ انداز میں کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ قونصلر اور دیگر ضروری خدمات ممکن حد تک فراہم کی جا سکیں۔
دوسری جانب سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکی سفارت خانہ یروشلم نے غیر ہنگامی امریکی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی تناؤ اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے باعث مغربی ممالک نے اپنے سفارتی اور شہری تحفظ کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ برطانوی حکومت کی ٹریول ایڈوائس ویب سائٹ پر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال سے باخبر رہیں اور سرکاری رہنمائی پر عمل کریں۔
حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔