ایران پر امریکا اور اسرائیل کے وسیع پیمانے پر حملے، تہران سمیت متعدد شہروں میں دھماکے

0

تہران – ایران پر امریکی اور اسرائیلی افواج نے آج وسیع پیمانے پر فضائی و سمندری حملے کیے، جن میں تہران، اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ اور دیگر اہم شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی حملہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کیا گیا، جبکہ صدارتی دفتر اور فوجی مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے کئی علاقوں، بشمول یونیورسٹی اسٹریٹ اور مہرآباد ایئرپورٹ، پر متعدد میزائل گرے، جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے ہزاروں ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ حملے اسکول اور دفتری اوقات میں کیے گئے، لیکن آیت اللہ خامنہ ای محفوظ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کے سکیورٹی آلات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ ایک حفاظتی کارروائی ہے اور اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور سکولز بند کر دیے گئے ہیں۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق ہسپتال الرٹ پر ہیں اور زخمیوں کی حتمی تعداد بعد میں جاری کی جائے گی۔ ایران میں فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، اور شہری تہران چھوڑنے لگے۔ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

اس دوران مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی، اور اسرائیلی حکام نے عوام کو گھروں میں رہنے اور جمع ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں، اور خطے میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ رہی تھی۔ فوجی اور سفارتی ماہرین کے مطابق اس حملے کے بعد ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں سلامتی کی صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.