اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے "جبہۃ النصرہ” پر پابندیاں ختم کر دیں
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی نے داعش اور القاعدہ کے زیر اثر گروہوں پر عائد پابندیوں کی فہرست سے ایک اہم شق کو حذف کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں "جبہۃ النصرہ” پر مخصوص پابندیاں اب مزید لاگو نہیں رہیں گی۔
کمیٹی نے بیان میں وضاحت کی کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2734 (2024) کی شق نمبر 1 کے تحت منظور شدہ پابندیاں—جس میں اثاثوں کا انجماد، سفری پابندیاں، اور اسلحہ کی فراہمی پر پابندی شامل تھی—اب "جبہۃ النصرہ” پر لاگو نہیں ہوں گی۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کے تحت کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد شام میں قریبی تعاون کے لیے سیاسی ماحول کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ برطانوی حکومت نے گزشتہ اکتوبر میں "ہیئۃ تحریر الشام” کا نام کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس سے شام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور سیاسی تعاون کی راہیں ہموار کرنے میں مدد ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اس فیصلے سے عالمی سطح پر شامی سیاسی عمل، خطے میں استحکام، اور متعلقہ گروہوں کے ساتھ تعاون کے مواقع میں نمایاں فرق پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حساسیت کا حامل ہے اور اس کی عالمی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر ممکنہ اثرات پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔