فرانس کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ، کشیدگی روکنے پر زور
پیرس — فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تہران کی جوابی کارروائی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ “فرانس سلامتی کونسل کے فوری اجلاس کا مطالبہ کرتا ہے”، اور زور دیا کہ موجودہ صورت حال “ہر ایک کے لیے خطرناک” ہے اور اسے فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کھلی جنگ کے “بین الاقوامی امن و سلامتی پر سنگین اثرات” مرتب ہوں گے۔ میکرون کے مطابق فرانس خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے تحفظ کے لیے ضروری وسائل تعینات کرنے کے لیے بھی تیار ہے، بشرطیکہ اس کی باضابطہ درخواست کی جائے۔
فرانسیسی صدر نے بتایا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ خطے میں موجود فرانسیسی فوجی اڈوں — خصوصاً قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن — کی سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جنہیں حالیہ ایرانی میزائل حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مبصرین کے مطابق فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی اپیل اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپی طاقتیں تنازع کو فوری سفارتی دائرے میں لانے اور وسیع علاقائی جنگ کے خطرے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔