برطانیہ ایران کے خلاف جنگی آپریشن میں شامل، کیئر اسٹارمر کی تصدیق؛ تہران کا سخت ردعمل
برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی فضائیہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں میں شریک ہو چکی ہے اور ایران کے خلاف مربوط دفاعی آپریشن کا حصہ ہے۔ ان کے بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اپنے سرکاری بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ برطانوی طیارے اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں موجود ہیں اور اتحادی افواج کے ساتھ مل کر دفاعی نوعیت کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنا اور دوبارہ مذاکرات کی طرف جانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جرمنی، فرانس اور خطے کے دیگر رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی راستہ نکالا جا سکے۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ اقدام علاقائی سلامتی اور اتحادی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ لندن کی جانب سے اسے وسیع تر دفاعی تعاون کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے برطانیہ کی شمولیت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ استعماری طاقتیں جب کسی ملک میں داخل ہوتی ہیں تو ان کا مقصد وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے امریکا میں موجود قیادت کو اسی ذہنیت کی نمائندہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ کی باضابطہ شمولیت سے تنازع کے دائرہ کار میں مزید توسیع کا خدشہ ہے، جبکہ یورپی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی خطے میں سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ساتھ ہی لندن کی جانب سے مذاکرات پر زور اس بات کا اشارہ ہے کہ مغربی اتحاد فوجی اور سیاسی دونوں محاذوں پر حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔