ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہادت کے وقت  اپنے دفتر میں موجود تھے

0

تہران: ایران کے سب سے طاقتور شخص اور سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو ان کے دفتر میں امریکی اور اسرائیلی حملے کے دوران شہید کر دیا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای اس وقت اپنے تفویض کردہ فرائض سر انجام دے رہے تھے اور شہادت کے وقت دفتر میں موجود تھے۔

حملے کی ابتدائی اطلاع کے مطابق یہ کارروائی ہفتے کی صبح کی اولین ساعتوں میں کی گئی۔ اس حملے میں خامنہ ای کے اہل خانہ بھی نشانہ بنے، جن میں ان کی بیٹی، داماد اور نواسی شامل ہیں جو شہید ہوئے۔

علاوہ ازیں، پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیر اعلیٰ علی شامخانی بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ ایران کے داخلی سیاسی اور عسکری ڈھانچے کے لیے ایک تاریخی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ملک میں عبوری قیادت اور جانشینی کے عمل کو پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔

پس منظر:
آیت اللّٰہ خامنہ ای نے تقریباً 37 سال تک ایران کی سپریم قیادت سنبھالی، اور اس عرصے میں ملک کے داخلی و خارجی امور میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کی شہادت کے بعد ایران میں عبوری قیادت کونسل قائم کی گئی ہے جو ملک کی حکمرانی سنبھالے گی اور مجلس خبرگان نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک عبوری اختیارات رکھے گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.