عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) حکام نے پاکستان سے پائیدار معاشی ترقی کیلئے اصلاحات اور ریونیو بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔
ترکیہ کے شہر استبنول میں موجود آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے پاکستانی حکام کے ساتھ ورچوئل مذاکرات جاری ہے۔ ٹیکس، نان ٹیکس ریونیو سمیت مختلف میٹنگز شیڈول ہیں۔ کیپٹل مارکیٹ آوٹ لک، نیشنل ٹیرف پالیسی، نان ٹیرف رکاوٹوں پر بات ہوگی۔ ساورن ویلتھ فنڈ، ای پروکیورمنٹ، نیب سے معلومات کے تبادلے پر جلد بات چیت ہوگی۔
آئی ایم ایف نے پائیدار معاشی ترقی کیلئےاصلاحات اور ریونیو بڑھانے کا مطالبہ دہرادیا۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اعلی سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی جانچ پر گزشتہ روز ورچوئل اجلاس منعقد ہوا،جس میں صوبائی ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے میں بینکوں کی تربیت میں کمی رکاوٹ قرار دیا گیا، آئی ایم ایف حکام کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ بینکوں کو تربیت دیں گے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان سے استنبول ترکیہ پہنچ گیا ہے۔ آئی ایم ایف مشن اور پاکستان کی معاشی ٹیم کے ورچوئل مذاکرات جاری رہیں گے۔ آئی ایم ایف مشن 25 فروری کو پاکستان آیا تھا،شیڈول کے مطابق 11 مارچ تک قیام کرنا تھا۔ علاقائی سیکیورٹی صورت حال کے باعث وفد گزشتہ روز اچانک قبل از وقت واپس چلا گیا۔