ایران کے خلاف طویل جنگ: امریکی ذخائر اور اخراجات پر سنگین اثرات

0

امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری جنگ طویل ہوئی تو متعدد خطرات سامنے آ سکتے ہیں، جن میں اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر پر بھاری اخراجات بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ پینٹاگون کی اطلاعات کے مطابق اگر امریکا مزید دس دن تک ایران پر حملے جاری رکھتا ہے تو اہم میزائل اور دفاعی ہتھیار خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

امریکی ذخائر پر دباؤ

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ذخائر میں شامل بعض ہتھیار، خصوصاً انٹرسیپٹر میزائل اور جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز (JDAMs)، چند دنوں میں کم ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ سال ایران کے ساتھ جھڑپوں میں امریکا نے تھاڈ (THAAD) انٹرسیپٹرز کا تقریباً 25 فیصد استعمال کیا، جن میں 150 میزائل ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے داغے گئے۔ بحری جہازوں سے داغے جانے والے انٹرسیپٹر میزائل بھی کم ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون حکام نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا کہ طویل جنگ کے دوران اسلحے کی کمی امریکی جوابی کارروائی اور دفاعی استعداد پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسرائیل اور یوکرین جیسے اتحادیوں کو فوجی امداد فراہم کرنے کے بعد امریکا کے ذخائر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

ایران کی میزائل صلاحیت اور امریکا کی پیداوار

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق ایران ہر ماہ 100 سے زائد میزائل تیار کر رہا ہے، جبکہ امریکا بمشکل 6 یا 7 انٹرسیپٹرز تیار کر پاتا ہے۔ اسٹینڈرڈ میزائل-3 (SM-3) کے ذخائر بھی محدود ہیں، جس کی وجہ سست رفتار پیداوار اور سابقہ محاذ آرائیاں ہیں۔

جنگ کے پہلے دنوں کے اخراجات

رپورٹس کے مطابق ایران پر حملوں کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی امریکا تقریباً 779 ملین ڈالر (تقریباً 6,900 کروڑ پاکستانی روپے) خرچ کر چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران شامل تھے۔

جوابی کارروائی میں ایران بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی اڈوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.