وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں، چیف جسٹس

0

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کیخلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے سپریم کورٹ کےحکم کیخلاف دائرنظرثانی درخواست مستردکردی، قرار دیا کہ وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں ملا۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہے، زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔

فیصلے کے مطابق آرٹیکل 184(3) کا غیر معمولی اختیار صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، انفرادی شکایات کے لیے نہیں، سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، چیف جسٹس امین الدین خان نےسپریم کورٹ کے12 ستمبر 2024 کےحکم کیخلاف دائرنظرثانی درخواست مستردکردی۔

فیصلے کے مطابق آرٹیکل 188 کےتحت نظرثانی کا حق محدود ہے، سپریم کورٹ سے نظرثانی مسترد ہونے کے بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔

درخواستگزارکا موقف تھاکہ 2015 میں سپریم کورٹ 3 رکنی بینچ نےانکےحق میں فیصلہ دیا تھا، درخواستگزار کا موقف تھا کہ فیصلے کو 2022 میں ایک 2 رکنی بینچ نے بدل دیا۔ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضےکا کیس تھا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.