ڈھاکا – بنگلادیش میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے باعث حکومت نے ملک بھر کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو عارضی طور پر بند کرنے کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی روزانہ فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق Al Jazeera کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلادیشی حکومت نے Eid al-Fitr کی تعطیلات کو قبل از وقت شروع کرتے ہوئے یونیورسٹیوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کی کھپت کو کم کیا جا سکے۔
تعلیمی حکام کے مطابق یونیورسٹی کیمپس میں رہائشی ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریز اور ایئرکنڈیشننگ کے نظام کے باعث بڑی مقدار میں بجلی استعمال ہوتی ہے، جسے موجودہ بحران کے دوران کم کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی احکامات کے تحت تمام غیرملکی نصاب پر مبنی اسکولز اور کوچنگ سینٹرز کو بھی عارضی طور پر بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق Bangladesh اپنی توانائی کی تقریباً 98 فیصد ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ عالمی توانائی منڈی میں حالیہ کشیدگی، خصوصاً United States، Israel اور Iran کے درمیان تنازع کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گیس کی شدید قلت کے باعث ملک میں موجود پانچ میں سے چار فرٹیلائزر پلانٹس کو بھی بند کر دیا گیا ہے تاکہ دستیاب گیس کو بجلی گھروں کو فراہم کیا جا سکے اور توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیشی حکومت مائع قدرتی گیس (LNG) عالمی منڈی سے مہنگے داموں خرید رہی ہے اور مزید کنٹینرز منگوانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل کو کم کیا جا سکے۔
