تل ابیب – اسرائیلی صدر Isaac Herzog نے ایران کے نئے بیلسٹک میزائل کو اسرائیل کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہتھیار بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 6 سے 8 کلوگرام دھماکا خیز مواد لے جانے والے ایرانی میزائل موت اور تباہی پھیلا رہے ہیں اور شہری و فوجی اہداف کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران نے پہلی بار جدید اور غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب کے کم از کم 8 علاقوں میں تباہی پھیلی، کئی مقامات کی بجلی منقطع ہو گئی اور تقریباً 4 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق Ben Gurion Airport پر ری فیولنگ طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ دارالحکومت میں ٹرین سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی۔
ادھر ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ جاری جنگ کے بعد خطے میں امریکا کے بغیر نیا توازن قائم ہوگا، جبکہ وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 600 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس تنازع کے ممکنہ نتائج پر مرکوز ہیں۔
