نیٹو سے وابستہ فرانسیسی جنرل مائیکل یاکوفلیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “آئس برگ سے ٹکرانے کے بعد ٹائٹینک کا ٹکٹ خریدنے” کے مترادف قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں جنرل یاکوفلیو کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کی اندھی حمایت اتحادیوں کے لیے ایک “تاریخی نقصان” ثابت ہو سکتی ہے، جو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کی نیٹو کو وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل North Atlantic Treaty Organization (نیٹو) کو خبردار کیا تھا کہ اگر اتحاد نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل “بہت برا” ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے عالمی طاقتوں، خصوصاً چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے جنگی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں تعینات کریں تاکہ تیل کی ترسیل بحال رکھی جا سکے۔
عالمی ردعمل: محتاط یا خاموش
تاہم عالمی سطح پر اس اپیل کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی:
- جاپان نے واضح طور پر اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا
- چین نے باضابطہ ردعمل دینے سے گریز کیا
- فرانس اور برطانیہ نے بھی فوجی شمولیت سے انکار کیا
- جنوبی کوریا نے صورتحال کا جائزہ لینے تک محدود ردعمل دیا
یہ ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔
پس منظر: آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس کی بندش یا عدم استحکام نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
تجزیہ
موجودہ صورتحال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان واضح پالیسی اختلاف سامنے آ رہا ہے۔ جنرل یاکوفلیو کا بیان اس وسیع تر مغربی ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اتحادی ممالک کسی غیر واضح یا طویل جنگی حکمت عملی کا حصہ بننے سے اجتناب کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک ہم آہنگی کمزور ہو رہی ہے، جو مستقبل میں نیٹو جیسے اتحادوں کے کردار پر سوالات کھڑے کر سکتی ہے۔
