ایران کے حمایت یافتہ یمنی گروہ Houthi movement نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل پر اپنے پہلے حملے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
حوثیوں کے مطابق اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جن کا ہدف مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات تھیں۔
گروہ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایران، لبنان، عراق اور فلسطین میں شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے ردِعمل میں کی گئی۔
حوثی ترجمان Yahya Saree نے اپنے بیان میں کہا کہ:
- اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی
- کسی بھی نئے عسکری اتحاد کی صورت میں فوری ردعمل دیا جائے گا
- بحیرۂ احمر کو ایران یا دیگر مسلم ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا
پس منظر
حوثی گروہ 2014 سے Sanaa اور یمن کے شمال مغربی علاقوں پر کنٹرول رکھتا ہے اور اس سے قبل بھی اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے تسلسل اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
