امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ہیکنگ گروپ نے، جسے “حنظلہ” کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تعلقات ایران سے ہیں، امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے اس ای میل اکاؤنٹ سے حاصل کردہ دستاویزات اور تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کر دی ہیں۔ ان تصاویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ 2025 میں کاش پٹیل کے ایف بی آئی ڈائریکٹر بننے سے پہلے کی ہیں۔ مختلف امریکی میڈیا اداروں، جن میں سی این این اور دیگر ذرائع شامل ہیں، نے ان معلومات اور مواد کی تصدیق کا ذکر کیا ہے۔
“حنظلہ” گروپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اس ہیکنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایف بی آئی کی جانب سے ان کے بعض ڈومین ناموں پر قبضے کے ردعمل میں کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایف بی آئی نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم واضح کیا ہے کہ ہیک ہونے والی معلومات ذاتی نوعیت کی تھیں اور ان میں کوئی سرکاری یا حساس حکومتی معلومات شامل نہیں تھیں۔ ادارے کے مطابق یہ معلومات پرانی ہیں اور 2025 میں پٹیل کی تقرری سے قبل کی سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ بعض عناصر ڈائریکٹر کے ذاتی ای میل کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا چکے ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق “حنظلہ” گروپ کو خطے میں ایک فعال سائبر گروہ سمجھا جاتا ہے، جو حالیہ برسوں میں مختلف سائبر سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور اس کے حوالے سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
ادھر امریکی وزارت انصاف نے بھی گذشتہ دنوں کچھ ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا، جنہیں اسی گروہ سے منسلک بتایا گیا، جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے ایسے سائبر حملوں میں ملوث افراد کی معلومات فراہم کرنے پر انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سائبر سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ریاستی اداروں کے ڈیجیٹل نظام کی حفاظت کے چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔
