تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب (Islamic Revolutionary Guard Corps) نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی والے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کارروائیوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے “خاتم الانبیاء” ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ ان کارروائیوں کا ہدف وہ مقامات تھے جہاں امریکی فوجی مبینہ طور پر موجود تھے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان مقامات پر سینکڑوں افراد موجود تھے اور حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ کارروائیاں اس تناظر میں کی گئیں کہ ایران پہلے ہی امریکی فوجی موجودگی اور خطے میں ان کے کردار کے حوالے سے خبردار کر چکا ہے۔ ایرانی موقف کے مطابق یہ حملے “جوابی اقدامات” کے طور پر کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام یا آزاد بین الاقوامی ذرائع کی جانب سے ان حملوں اور مبینہ نقصانات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اس نوعیت کی رپورٹس عام طور پر کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں اور فریقین کے درمیان بیانیہ جنگ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
خطے کی موجودہ صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے، جہاں مختلف ممالک اور مسلح گروہ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بڑے حملے یا دعوے کے بعد سفارتی اور سکیورٹی سطح پر ردعمل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
