ایران کا این پی ٹی سے الگ ہونے کا عندیہ، جوہری پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری

Iran hints at withdrawal from NPT, preparing for major changes in nuclear policy

Iran نے عالمی جوہری نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت میں Nuclear Non-Proliferation Treaty (این پی ٹی) سے علیحدگی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس سے خطے اور دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن Malek Shariati کے مطابق ایک نیا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے، جس میں ایران کی جوہری پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ اس بل کے تحت تین بڑے اقدامات شامل ہیں: این پی ٹی سے باضابطہ دستبرداری، جوہری معاہدے کے تحت ایران کی ذمہ داریوں کو منظم کرنے والے قانون کی منسوخی، اور ہم خیال ممالک کے ساتھ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے نئے بین الاقوامی معاہدوں کی حمایت۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب United States اور Israel کے ساتھ جاری کشیدگی اور حملوں کے باعث ایران میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کا اجلاس بھی معمول کے مطابق نہیں ہو پا رہا، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ اس اہم بل پر باقاعدہ بحث اور منظوری کب ممکن ہو سکے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران این پی ٹی سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو یہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا اور International Atomic Energy Agency جیسے اداروں کی نگرانی محدود ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر اسلحہ کی دوڑ تیز ہونے اور ایک نئے سکیورٹی بحران کے جنم لینے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے