پاکستان کے ذریعے ایران-امریکا مذاکرات میں پیش رفت، ٹرمپ کا جلد معاہدے کا عندیہ

Trump Media Talk in personal Plain

Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ United States اور Iran کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، جن میں Pakistan سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

دورانِ پرواز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور “ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت جلد ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں گے۔”

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو Strait of Hormuz سے گزرنے کی اجازت دی ہے، اور اب تک 20 جہاز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے اس اجازت کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf سے منسوب کیا۔

امریکی صدر نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکا ایرانی تیل پر قبضہ کر سکتا ہے اور Kharg Island جیسے اہم توانائی مرکز کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ میرا پسندیدہ آپشن ہے”، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس مؤثر دفاعی صلاحیت محدود ہے۔

اسی تناظر میں امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سیکڑوں امریکی اسپیشل آپریشن فورسز پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جس سے خطے میں عسکری دباؤ میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں Cuba کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جلد ہی کیوبا ناکام ہو جائے گا، پھر ہم وہاں مدد کے لیے موجود ہوں گے”، جسے مبصرین نے امریکی خارجہ پالیسی کے ممکنہ اگلے مرحلے کا اشارہ قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب مذاکرات کی پیش رفت کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب فوجی آپشنز اور توانائی تنصیبات پر کنٹرول کے بیانات خطے میں غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے