افغانستان میں طالبان حکومت عالمی سطح پر غیر تسلیم شدہ، انسانی حقوق اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

افغانستان کی موجودہ صورتحال پر عالمی ماہرین کی آراء ایک واضح اور تشویشناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ سینٹر آف پیس کے بانی مہمت سوکاؤ ووزیل کے مطابق طالبان کو ایک جائز حکومت نہیں بلکہ ایک “قبضہ کرنے والی طاقت” تصور کیا جانا چاہیے، کیونکہ انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کابل پر قبضہ کیا۔ ان کے مطابق طالبان کی حکومت بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی حیثیت رکھتی ہے اور ان کے کیے گئے معاہدے بھی قانونی اعتبار سے کالعدم ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی دہشتگردی کے ماہر پروفیسر روہن گونارتنا طالبان حکومت کو جدید دور کی سب سے قدامت پسند اور محدود سوچ رکھنے والی حکومت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان نہ تو دیگر سیاسی قوتوں کو اقتدار میں شریک کرتے ہیں اور نہ ہی خواتین کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، جہاں لڑکیوں کی تعلیم تک محدود کر دی گئی ہے، جو انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔

اسی تناظر میں مائیکل کوگل مین، جو ولسن سینٹر کے ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان اپنے قریبی اتحادیوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ طالبان نے 2001 میں بھی القاعدہ سے تعلق ختم نہیں کیا تھا اور آج بھی ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ساتھ ان کے روابط موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر پاکستان سرحد پار دہشتگردی کے خلاف مزید سخت اقدامات کرتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ان تمام آراء سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی صورتحال صرف ایک داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سلامتی، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے