48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز نہ کھولا تو توانائی تنصیبات پر حملے کریں گے، ٹرمپ

Trump's controversial statement: "Cuba is the next target" — increasing global concern

Donald Trump نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا اور Strait of Hormuz کو کھولا نہ گیا تو امریکا ایران کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

واشنگٹن سے سامنے آنے والے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں، Kharg Island اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملے کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی اس صورت میں ہوگی اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی اور ایران نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہ کی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکا ایران میں ایک “نئی اور زیادہ معقول حکومت” کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ جلد نہ ہوا تو امریکا سخت اقدامات اٹھائے گا۔

ان کے مطابق امریکا ماضی میں بعض اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنا رہا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں تناؤ 31 دن سے جاری تنازع کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی خطے میں موجود امریکی توانائی تنصیبات کو جواباً ہدف بنا سکتی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے