غزہ میں فعال فلسطینی تنظیم Hamas کے ذرائع نے تخفیفِ اسلحہ سے متعلق پیش کیے گئے منصوبے پر ثالثوں کے ساتھ اختلافات کو تسلیم کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مصر، قطر اور ترکی نے غزہ میں مختلف دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک مجوزہ فریم ورک کی تیاری میں کردار ادا کیا، جس میں امریکہ کی حمایت بھی شامل رہی۔ اس منصوبے کے تحت ایک مرحلہ وار عمل تجویز کیا گیا ہے جس میں حماس سے ہتھیاروں، سرنگوں کے نیٹ ورک اور عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایک “بورڈ آف پیس” کی نگرانی میں مرحلہ وار تخفیفِ اسلحہ اور اس کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل شامل ہے، تاہم یہ عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اسلحہ ختم ہونے کی “حتمی تصدیق” نہ ہو جائے۔
حماس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے، لیکن تجویز کی بعض شقوں پر اختلافات موجود ہیں، جنہیں تنظیم نے “عام” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ فلسطینی مطالبات کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتا، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اسرائیلی انخلا کے بغیر تخفیفِ اسلحہ کی شرط عائد کی جا رہی ہے۔
منصوبے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ غزہ میں ایک نئی سکیورٹی فورس تشکیل دی جائے جو انتظامی اور امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھالے، جبکہ حماس کا سیاسی یا سکیورٹی کردار ختم کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں مصر اور اردن میں تربیتی پروگرامز اور بھرتیوں کی تیاری بھی زیر غور ہے۔
ادھر ثالثی کرنے والے ممالک اور امریکہ کی کوشش ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پائے جس کے تحت مرحلہ وار تخفیفِ اسلحہ کے ساتھ ساتھ تعمیرِ نو کا عمل بھی شروع کیا جا سکے، تاہم حماس نے اس عمل کو اپنے مطالبات سے مشروط کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مجموعی طور پر فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے مزید سفارتی مذاکرات اور لچک کی ضرورت ہوگی۔
