ایران میں بمباری کے باوجود حکومتی حمایت میں عوامی مظاہرے، قیادت بھی شریک

Despite bombing in Iran, public demonstrations in support of the government, leadership also participates

Iran میں امریکا اور اسرائیل کی بمباری کے باوجود عوامی سطح پر مزاحمت اور یکجہتی کے مظاہرے سامنے آئے ہیں۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

ان مظاہروں میں ایرانی صدر Masoud Pezeshkian اور وزیرِ خارجہ Abbas Araghchi نے بھی شرکت کی، جسے حکومتی سطح پر عوامی حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صدر پزشکیان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور اسلامی انقلاب کے تحفظ پر زور دیا، جبکہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ عوامی جذبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریلی میں شریک ہوئے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب United States اور Israel کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کی دھمکیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں عوامی ردعمل اور حکومتی بیانیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی دباؤ کے باوجود اندرونی سطح پر مزاحمت اور سیاسی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے