ٹھل: پسند کی شادی کے تنازع پر گاؤں جلانے کے واقعے میں پولیس نے مزید ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی فیضان علی نے گاؤں محمد صدیق آرائیں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔
ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے گاؤں میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا، جس کے بعد گرفتار ملزمان کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے اور مطلوب افراد کو دو روز میں گرفتار کرلیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق 5 مئی کو پسند کی شادی کرنے پر مسلح افراد نے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں 150 گھروں کو آگ لگا دی تھی۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے گاؤں میں پولیس پکٹ قائم کردی گئی ہے جبکہ مزید نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔
فیضان علی نے کہا کہ پوری پولیس ٹیم گاؤں محمد صدیق آرائیں کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔
دوسری جانب گاؤں صدیق آرائیں میں 150 سے زائد گھر جلانے کے تنازع پر دونوں قبائل کے طاقتور سردار آمنے سامنے آ گئے ہیں، آگ، گولیاں، چیخیں اورتباہی، 13روز بعد دونوں سرداروں کے بیانات نے کئی راز بے نقاب کر دیئے ہیں۔
گاؤں جلانے کے الزام میں سردار احمد علی چنا اور سردار صدام برڑو ایک دوسرے پر برس پڑے، سردار احمد علی چنہ نے الزام لگایا کہ صدام برڑو اور اس کے مسلح افراد نے گاؤں کو آگ لگائی۔
سردار صدام برڑو نے کہا کہ سرداراحمد علی چنہ 200 مسلح افراد کے ساتھ حملہ آورہوا، گھروں کوآگ لگائی گئی، میں گھر کیوں جلاؤں گا جب میں پہنچا تو گھر جل رہے تھے، غلطی ایک شخص کی تھی مگر پورے گاؤں کے گھر کیوں جلائے گئے، لڑکی چنہ برادری کی گئی تو انہوں نے یہ غلط کام کیا گھروں کو جلایا، سردار احمد علی چنہ کو ماننا چاہیے کہ انہوں نے گھر جلائے ہیں دوسروں پر الزام تراشی نہ کرے۔
متاثرین پہلےہی دونوں سرداروں کو سانحے کا ذمہ دار قرار دے چکے، اب ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری ہے
