وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وفاق اور صوبوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مشاورتی اجلاس میں کمزور طبقے کو ریلیف دینے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں کمزور طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات پر ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرنے پرغور ہوا۔ وزارت خزانہ کے مطابق عام سبسڈی ختم کرکے صرف مستحقین کو ریلیف دینےکی تجویز سامنے آئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ اجلاس میں ورچوئل شرکت کی۔ ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے سبسڈی دینے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ قومی سطح پرمشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سبسڈی کے نئے فریم ورک پر کام جاری ہے۔
واضح رہے کہ جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کا قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کا نظام ابھی بھی پہلے ہفتے کی قیمتوں پر برقرار ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پرائس ڈیفرینشل کلیم 204 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، جو صرف دو ہفتوں میں تقریباً تین گنا اضافہ ہے۔ پیٹرول بھی پر پی ڈی سی تقریباً 96 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ بھاری پیٹرولیم لیوی کو شامل کرنے کے باوجود خالص سبسڈی اب بھی تقریباً 139 روپے فی لیٹر کے برابر ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔ برطانوی کروڈ کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی خام تیل 103 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔ اِس وقت آبنائے ہرمز پر تقریباً 3 ہزار جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات بھی تیل بحران سے محفوظ نہ رہ سکا۔ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 سے 70 فیصد تک اضافہ کردیا۔
