واشنگٹن نے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے تحت ڈیلسی روڈریگز پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں، جو وینزویلا کی عبوری قیادت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج کی کارروائی کے بعد سابق صدر نکولس مادورو کی حکومت میں تبدیلی کے بعد نئی سیاسی صورتحال پیدا ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عبوری حکومت کے ساتھ روابط کو فروغ دیا ہے اور توانائی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی حکام کے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کے دورے بھی کیے گئے تاکہ ممکنہ سرمایہ کاری اور تیل کے معاہدوں پر پیش رفت ہو سکے۔
مارچ میں امریکہ نے روڈریگز کو وینزویلا کے رہنما کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جس کے بعد سفارتی تعلقات کی بحالی اور بیرون ملک وینزویلا کی ملکیت والے اثاثوں تک رسائی کے امکانات پیدا ہوئے۔ روڈریگز نے اس فیصلے کو دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے میں بھی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے، جہاں وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی PDVSA اور اس کی ذیلی کمپنی Citgo کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی تیاری جاری ہے۔ Citgo، جو وینزویلا کے بیرونی اثاثوں میں اہم سمجھا جاتا ہے، 2019 سے مختلف انتظامی بورڈز کے تحت چل رہا ہے۔
اگرچہ ڈیلسی روڈریگز اور ان کے قریبی حلقوں پر امریکہ میں کسی مجرمانہ الزام کا سامنا نہیں ہے، تاہم سابق حکومت کے متعدد اعلیٰ عہدیدار پابندیوں اور الزامات کی زد میں رہے ہیں، جن میں منشیات اسمگلنگ اور دیگر معاملات شامل ہیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پابندیوں کا خاتمہ اور سفارتی روابط کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے توانائی، تجارت اور علاقائی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
