ایسٹر کے موقع پر کیتھولک دنیا کے روحانی پیشوا Pope Leo XIV اور اسرائیل کے صدر Isaac Herzog کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور امن کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ویٹیکن کے ترجمان ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری سنگین تنازعات کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کے تمام ممکنہ چینلز کو دوبارہ فعال کیا جانا چاہیے، تاکہ ایک منصفانہ اور دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
گفتگو کے دوران اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں شہری آبادی کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کا احترام یقینی بنانا ہوگا۔
Pope Leo XIV اور Isaac Herzog کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس خطے میں ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی مذہبی و سیاسی قیادت خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ جنگی راستوں سے گریز پر زور دیا جا رہا ہے۔
