حکومت سندھ کا ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ 2000 روپے سبسڈی دینے کا اعلان

کراچی:  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سندھ ہر موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ 2000 روپے سبسڈی دے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے جو فیصلے کئے وہ آسان نہیں تھے، یہ فیصلے وفاق اور صوبوں کی مشاورت سے کیے گئے اور ان کا مقصد کمزور طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ 28 فروری سے ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے، وفاقی حکومت نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر افسوس کا اظہار بھی کیا، پاکستان نے عالمی سطح پر بھرپور کوشش کی ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہوں، اس جنگ کے اثرات سے ہم بھی متاثر ہوئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ موٹر سائیکل سوار کو 2000 روپے 20 ایکڑ تک زمین والوں کو 1500 فی ایکڑ دیے جائیں گے، سندھ حکومت گندم کی خریداری خود کرے گی، ٹارگٹڈ سبسڈی کا بوجھ صوبوں کو اٹھا نا ہوگا، پبلک ٹرانسپورٹ کو 1 لاکھ روپے،2 ایکسلز ٹرک کو 70 ہزار،بڑے ٹرک کو 80 ہزار روپے ماہانہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 27 ہزار 297 بسیں سندھ میں رجسٹرڈ ہیں، صرف رجسٹرڈ گاڑیوں ،ٹرکوں اور موٹرسائیکل کو سبسڈی ملے گی، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ کرائے نہ بڑھائے، پریشانی ہوگی لیکن حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی قیادت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے، اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال اور عالمی جنگ کے اثرات پر بریفنگ دی گئی، جبکہ وفاقی حکومت کے مجوزہ فیصلوں پر مشاورت کی گئی، اس کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان متعدد آن لائن اور بالمشافہ ملاقاتیں ہوئیں، اور پھر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں حتمی فیصلے کیے گئے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ فیصلے آسان نہیں تھے بلکہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر ناگزیر تھے، کیونکہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملک پر پڑتا ہے، وزیراعظم نے ابتدائی اضافے کے باوجود تقریباً تین ہفتوں تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا، تاہم اس دوران دی جانے والی بلینکٹ سبسڈی کے باعث غیر متوازن صورتحال پیدا ہوئی، جس میں امیر اور غریب دونوں کو یکساں فائدہ مل رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور مارچ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں فیول کنزمپشن میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ عالمی سطح پر قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اسی وجہ سے حکومت نے سبسڈی کے نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا تاکہ صرف مستحق افراد کو ریلیف دیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مہنگے فیول سے متاثرہ کمزور طبقات کو ریلیف دینا ضروری ہے، جس کے لیے ایک ماہ کے لیے خصوصی ریجیم پر اتفاق کیا گیا ہے، ریلیف پلان کے چار اہم کمپوننٹس طے کیے گئے ہیں، جن میں سے دو اقدامات صوبے خود نافذ کریں گے، ایک اقدام وفاقی سطح پر ہوگا جس کے لیے فنڈز صوبے فراہم کریں گے، جبکہ چوتھا اقدام پاکستان ریلوے سے متعلق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے میں لوئر کلاس مسافروں کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے لیے وفاق سبسڈی دے گا۔ موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دینے کی تجویز تمام صوبوں کی جانب سے آئی ہے، تاہم پٹرول پمپس پر مختلف قیمتوں کا نفاذ ممکن نہیں، اس لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق سندھ میں تقریباً 67 لاکھ موٹر سائیکلز رجسٹرڈ ہیں، لیکن سب سڑکوں پر استعمال نہیں ہوتیں، جس کے باعث سبسڈی کے نفاذ میں پیچیدگیاں موجود ہیں، رجسٹریشن اور اصل استعمال میں فرق اور بعض موٹر سائیکلز کا مختلف افراد کے زیر استعمال ہونا بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اس لیے شہریوں کو اپنی رجسٹریشن اپڈیٹ رکھنی چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ سبسڈی کے لیے 20 ورکنگ ڈیز اور یومیہ ایک لٹر کے حساب سے طریقہ کار تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر مستحق موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ 20 لیٹر پر تقریباً 100 روپے فی لٹر سبسڈی دی جائے گی، یہ سبسڈی براہ راست فراہم کی جائے گی اور پٹرول پمپ پر فوری رعایت نہیں دی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے عوام کو آگاہ کیا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کیونکہ پٹرول پمپس پر کم قیمت پر ایندھن دستیاب نہیں ہوگا، بلکہ مستحق افراد کو ایک مخصوص نظام کے تحت ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ حقیقی ضرورت مندوں تک سہولت پہنچ سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے