امریکا میں اعلیٰ فوجی قیادت میں ردوبدل، مزید 2 سینئر افسران برطرف

Reshuffle in top military leadership in the US, 2 more senior officers dismissed

امریکی وزیرِ دفاع Pete Hegseth نے اعلیٰ فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے مزید دو سینئر افسران کو عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ ایم ہوڈن اور ولیم گرین جونیئر کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، جس کے بعد امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں جاری تبدیلیوں اور اندرونی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل آرمی چیف آف اسٹاف Randy George کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، حالانکہ یہ منصب عموماً چار سالہ مدت کے لیے ہوتا ہے۔ رینڈی جارج ایک کیریئر فوجی افسر تھے اور انہیں 2023 میں سابق صدر جو بائیڈن نے نامزد کیا تھا۔

میجر جنرل ڈیوڈ ایم ہوڈن، جو حال ہی میں ترقی پا کر آرمی کے ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کی قیادت کر رہے تھے، جدید کاری اور عسکری حکمتِ عملی کے اہم ذمہ دار سمجھے جاتے تھے۔ جبکہ میجر جنرل ولیم گرین جونیئر فوج کے اعلیٰ ترین چیپلین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹانے یا پس منظر میں بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ 14 ماہ میں مجموعی طور پر درجنوں اعلیٰ فوجی افسران کو برطرف کیا ہے، جس نے فوجی ادارے کے اندر خدشات کو جنم دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی دفاعی اداروں میں تنظیمی اور اسٹریٹجک سطح پر تبدیلیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے، تاہم ان برطرفیوں کی وجوہات کے بارے میں سرکاری سطح پر تفصیلی وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے