اجلاس میں آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے اس دورے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا نہ صرف ہمسایہ بلکہ برادرانہ ملک بھی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ توانائی، لائیو سٹاک، ماحولیات، زراعت اور ایمرجنسی سروسز کے شعبوں میں تعاون کو تیز کیا جائے اور تمام منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے، مفاہمتی یادداشتیں صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ ان پر عملی پیش رفت کے لیے واضح ٹائم لائن اور جوابدہی کا نظام ہونا چاہیے۔
اجلاس میں تھر کوئلے کو گیس میں تبدیل کر کے کھاد بنانے کے بڑے صنعتی منصوبے پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت مقامی کوئلے سے امونیا اور یوریا کی پیداوار ممکن بنائی جائے گی، اس منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی مئی 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جسے وزیراعلیٰ نے توانائی کے تحفظ اور زرعی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
علاوہ ازیں، مویشیوں کی جدید رجسٹریشن، ویکسینیشن اور بیماریوں کی تشخیص کے نظام، سیوریج ٹریٹمنٹ، پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی بہتری سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ نے مہنگے منصوبوں کے بجائے پائیدار اور کم لاگت حل کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں کنٹرولڈ ایگریکلچر سائنس اینڈ ایجوکیشن پارک، پلاسٹک اور ربڑ ری سائیکلنگ منصوبے اور جدید فائر فائٹنگ سسٹمز کے قیام پر بھی غور کیا گیا، جبکہ ان منصوبوں کو سپیشل اکنامک زونز میں قائم کرنے کی تجاویز زیر بحث آئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام متعلقہ محکموں کو رکاوٹیں دور کر کے عملدرآمد تیز کرنے، چینی شراکت داروں سے روابط مضبوط بنانے اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک-چین تعاون سندھ کی ترقی کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے اور شفافیت، بروقت عملدرآمد اور مؤثر نگرانی ہی ان منصوبوں کو طویل مدتی معاشی فوائد میں تبدیل کر سکتی ہے
