ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں کسی تیسرے فریق، خصوصاً اسرائیل کے مؤقف کو مرکزی حیثیت دی گئی تو کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق اگر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات براہِ راست اور صرف United States اور ایران کے درمیان ہوں تو ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔
عارف نے سخت لہجے میں کہا کہ کسی بھی ایسے فریم ورک کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں “اسرائیل فرسٹ” یا کسی بیرونی دباؤ کو فیصلہ کن کردار دیا جائے، اور ایسی صورت میں ایران اپنے دفاعی مؤقف کو مزید مضبوط انداز میں جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف فریقین کے درمیان سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور اسلام آباد مذاکرات کو اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
