ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر دباؤ یا سرینڈر قبول نہیں کریں گے: صدر مسعود پزشکیان

ایران پر جتنا دباؤ ڈالا جائے گا، ردعمل اتنا ہی سخت ہوگا, صدر مسعود

ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے، تاہم کسی بھی بیرونی دباؤ یا سرینڈر کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اصولی مؤقف پر قائم ہے اور وہ امن کے قیام کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن دشمن کی جانب سے اپنی شرائط مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Donald Trump نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، اور جلد کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں سینئر صحافی Hamid Mir نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے کے خواہشمند ہیں، تاہم انہوں نے اس کے لیے شرط رکھی ہے کہ ایرانی صدر بھی اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کریں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی Donald Trump نے عندیہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ آئندہ چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے