حوثیوں کی آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی، عالمی تجارت کو خطرہ

Houthis threaten to close Bab al-Mandab Strait, threatening global trade

Houthis نے اہم عالمی گزرگاہ Bab el-Mandeb Strait کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد عالمی بحری تجارت پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔

Sanaa میں حوثی حکومت کے نائب وزیر خارجہ نے بیان میں کہا کہ Donald Trump امن کے قیام میں رکاوٹیں ڈالنا بند کریں، بصورت دیگر باب المندب جیسے اہم سمندری راستے کو بند کیا جا سکتا ہے۔

باب المندب آبنائے عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جو Gulf of Aden کو Red Sea سے ملاتی ہے، جبکہ یہی راستہ آگے Suez Canal کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تیز رفتار بحری رابطہ فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک سے یورپ اور ایشیا کو جانے والے تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اور اندازاً عالمی خام تیل کی سپلائی کا تقریباً 5 فیصد (تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ) اس گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے۔ اگر اسے بند کر دیا جائے تو عالمی تجارت کا تقریباً 10 فیصد متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Strait of Hormuz بھی کشیدگی کا شکار ہے اور ایران کی جانب سے اس پر سخت کنٹرول برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

Islamic Revolutionary Guard Corps کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے متعلق بحری نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی جاری رہے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے