ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو متوقع: ڈونلڈ ٹرمپ

Trump's message to the Iranian people: "Take control of your government now"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو منعقد ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کا امکان موجود ہے، تاہم حتمی صورتحال ایران کے فیصلے پر منحصر ہے۔

ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران انسانی حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے 8 خواتین مظاہرین کو سزائے موت دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے، جن میں سے 4 کو فوری طور پر رہا بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران ایک مشترکہ اور قابلِ قبول تجویز پیش نہیں کرتا۔ ان کے مطابق امریکہ نے فوج کو ہائی الرٹ رہنے اور آبنائے ہرمز میں نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت سے انکار کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

امریکی اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پچھلے دور میں اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وفد کی اعلیٰ سطحی قیادت کے دورے بھی منسوخ یا مؤخر کیے گئے ہیں۔

ادھر امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کے اندر پالیسی سطح پر اختلافات اور مختلف دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی مذاکرات میں تاخیر کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے