جنوبی کوریا کی فضائیہ نے ساڑھے چار سال قبل پیش آنے والے ایک خطرناک فضائی حادثے پر عوام سے باضابطہ معذرت کر لی ہے، جس میں دو ایف پندرہ لڑاکا طیارے آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ تازہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حادثے کے وقت پائلٹس سیلفیاں لینے اور ویڈیو بنانے میں مصروف تھے۔
یہ حادثہ دسمبر 2021ء میں ڈائیگو کے قریب ایک تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا تھا۔ ابتدائی طور پر حادثے کی وجوہات واضح نہیں تھیں، تاہم حالیہ آڈٹ رپورٹ میں چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
سرکاری تحقیقاتی ادارے کے مطابق ایک پائلٹ، جو اپنی یونٹ کے ساتھ آخری پرواز کر رہا تھا، بہتر ویڈیو بنانے کے لیے بغیر اجازت طیارے کو تیزی سے اوپر لے گیا اور خطرناک انداز میں موڑ دیا، جبکہ دوسرا پائلٹ ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ جب دونوں طیارے ایک دوسرے کے قریب آئے تو ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کی گئی، تاہم ایک طیارے کا پچھلا حصہ دوسرے کے وِنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 8 لاکھ 80 ہزار وون (تقریباً 6 لاکھ ڈالر) کا نقصان ہوا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
رپورٹ میں حادثے کا بنیادی ذمہ دار ونگ مین پائلٹ کو قرار دیا گیا، جس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی گئی، اسے پرواز سے معطل کیا گیا اور بعد ازاں وہ فوج چھوڑ چکا ہے۔ متعلقہ پائلٹ کو مرمت کے اخراجات کا کچھ حصہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں فضائیہ کی جانب سے پرواز کے دوران ویڈیو بنانے سے متعلق کمزور نگرانی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ جنوبی کوریا کی فضائیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی قواعد مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
