پاکستان کی وزارت خارجہ کے حکام نے پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق کی زیر صدارت اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ کمبوڈیا میں گرفتار 54 پاکستانی شہری آن لائن فراڈ میں ملوث تھے۔
اجلاس میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق بعض کیسز میں اپنے ہی قریبی رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کو بیرون ملک جعلی ملازمتوں کے بہانے فروخت کرنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے۔
وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران قیدیوں کے تبادلے کے تحت مختلف ممالک سے 20 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔ جبکہ وزارت خارجہ نے کئی قیدیوں کے جرمانے معاف کرانے میں کردار ادا کیا، تاہم واپسی کے سفری اخراجات متعلقہ افراد کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔
کمبوڈیا میں تعینات پاکستانی سفیر کے مطابق بعض افراد ایک فراڈ کمپنی چھوڑ کر اپنی مرضی سے دوسری کمپنی میں شامل ہوئے، جبکہ کئی ملزمان خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں۔
امیگریشن حکام کا کہنا تھا کہ کمبوڈیا جانے والے بیشتر افراد کو علم ہوتا ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بننے جا رہے ہیں، اس کے باوجود وہ مالی فائدے کے لالچ میں یہ خطرہ مول لیتے ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری صبا صادق نے والدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائم اور بین الاقوامی جرائم کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جس کے تدارک کے لیے سخت نگرانی اور آگاہی مہم ناگزیر ہے۔
